دیوان ۔۔ ناصر کاظمی

Monday, May 01, 2006

غزل

غزل

ہم جس پیڑ کی چھاوں میں بیٹھا کرتے تھے

اب اُس پیڑ کے پتے جھڑتے جاتے ہیں

ایک انوکھی بستی دھیان میں رہتی ہے

اُس بستی کے باسی مجھے بلاتے ہیں

میں تو آنکھیں بند کیے بیٹھا ہوں مگر

دل کے دروازے کیوں کھلتے جاتے ہیں

تو آنکھوں سے اوجھل ہوتا جاتا ہے

دور کھڑے ہم خالی ہاتھ ہلاتے ہیں

جب بھی نئے سفر پر جاتا ہوں ناصر

پچھلے سفر کے ساتھی دھیان میں آتے ہیں